26 جولائی 2026 - 17:46
شام کی عبوری حکومت کے سربراہ: لبنان میں فوجی کارروائی کا کوئی ارادہ نہیں، وہاں کا انتشار براہِ راست شام کو متاثر کرے گا

دمشق: شام کی عبوری حکومت کے سربراہ احمد الشرع نے کہا ہے کہ شام لبنان میں کسی بھی فوجی کارروائی کا خواہاں نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ لبنان میں پیدا ہونے والی بدامنی کے اثرات براہِ راست شام پر مرتب ہوں گے۔ انہوں نے لبنان میں ہتھیاروں کو صرف ریاستی اختیار میں رکھنے اور جنگ یا امن کا فیصلہ صرف لبنانی حکومت کی جانب سے کیے جانے کی حمایت کی۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، احمد الشرع نے الجزیرہ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں علاقائی صورتحال، ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات اور شام کے داخلی معاملات پر اپنے موقف کا اظہار کیا۔

انہوں نے کہا کہ شام لبنان کے اندر کسی بھی فوجی اقدام کا ارادہ نہیں رکھتا بلکہ لبنانی حکومت کے ساتھ مل کر ایسے حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہا ہے جو لبنان میں امن و سلامتی کے قیام کا باعث بنیں۔

احمد الشرع نے کہا کہ لبنان کے بحران کا حل صرف سکیورٹی اقدامات تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ ایک جامع حل تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ لبنان میں کسی بھی قسم کا انتشار براہِ راست شام پر اثر انداز ہوگا۔

شام کی عبوری حکومت کے سربراہ نے کہا کہ دمشق لبنان میں ہتھیاروں کو ریاستی اداروں کے اختیار میں رکھنے اور جنگ یا امن کے فیصلے کا اختیار صرف لبنانی حکومت کے پاس ہونے کی حمایت کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ شام خطے میں جنگ کے دائرے کے پھیلاؤ سے فکرمند ہے اور اسرائیل کے ساتھ تصادم سے گریز کر رہا ہے، کیونکہ دمشق کے مفاد میں یہ تنازع نہیں ہے۔

احمد الشرع نے کہا کہ شام بعض ممالک کی شمولیت کے ساتھ اسرائیل کے ساتھ سکیورٹی معاہدے تک پہنچنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ان کے بقول اگر یہ معاہدہ کامیاب ہوتا ہے تو یہ شام کے مقبوضہ گولان پر خودمختاری کے حق سے دستبردار ہوئے بغیر جامع امن کی جانب ایک قدم ہوگا۔

انہوں نے مزید کہا کہ شام پر عائد اقتصادی پابندیوں کا خاتمہ اس وقت تک مؤثر نہیں ہوگا جب تک شام کا نام دہشت گردی کی حمایت کرنے والے ممالک کی فہرست سے خارج نہ کیا جائے۔

شام کی عبوری حکومت کے سربراہ نے کردوں کے ساتھ معاہدے پر عمل درآمد کے حوالے سے کہا کہ اس میں سست روی اور تاخیر موجود ہے، تاہم دمشق اب بھی اس معاہدے کو اہمیت دیتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ لاپتہ افراد کے معاملے سے نمٹنے کے لیے عالمی معیار کے مطابق اور تجربہ رکھنے والے ممالک کے تعاون سے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔

احمد الشرع نے مزید کہا کہ دمشق اور عراق کے تعلقات میں مسلسل بہتری آ رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ شام میں روسی فوجی اڈوں کے مستقبل کے حوالے سے ماسکو کے ساتھ مشاورت کا سلسلہ ابھی ختم نہیں ہوا۔

انہوں نے کہا کہ دیر الزور میں حالیہ حادثے کی تحقیقات جاری ہیں اور امکان ہے کہ یہ ایک معمول کا حادثہ تھا۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha